عقل والے تھے

 

عقل والے تھے  ، عمر ہی بے عقلی میں کاٹ گےؑ

بے عقل ہیں ایسے بھی جن کی اولاد صدقہؑ جاریہ ہے

 

Poetry

 

 

ناد علی علیہ السلام

 

 

سچ کہنے کی جسارت نہ ہی کرو تو اچھا ہے مظہر

دوست ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے پہ مجبور ہو جایؑں گے

لاکھ رکھتے ہیں لوگ چاہت مدنی شہر ﷺ کی مگر

علیؑ سے گزر یں گے جو داخل شہر ہو جایؑں گے

ندا کریں ان کی جو حیرت زاد چیزوں کے ہیں مظہر

جن کی ولایت بھی اعلیٰ ، وہ علیؑ مدد گار ہو جایؑں گے

 

 

Poetry

 

 

” دعا کا یقین “

 

دعایؑں مانگتے ہیں سب لیکن یقین کسی کو بھی نہیں ہے

یقیں ہو کامل گر تو قبولیت میں کبھی دیر بھی نہیں ہے

چادر چاردیواری صرف گھر کے لےؑ کافی نہیں ہے

بنا پردہ داری کے کہیں کویؑ ملت بچی بھی نہیں ہے

 

Poetry