Advertisements

وہ بھی بار نکلے

درد بانٹنے والے تھے جو سب کا وہ بھی بار نکلے
وقت آن پڑا جب بے وفا سب ان کے یار نکلے

Advertisements

” عید مُبارَک “

کہتے ہیں آیؑ اور دبے پاؤں گزر گیؑ عید
شاید وہ چاند چھت پہ دیکھا گیا ہو گا ،

پردیس میں عید کی بات ہم نہیں کرتے 
عید پر ہم کو یاد کسی نے تو کیا ہو گا ،

خوشی ہے کہ سب روز عید خوش ہیں
خلوت میں کسی نےعید مبارک تو کیا ہو گا !

” عید مُبارَک “

Poetry

 

یوم آزادی مبارک

کیسے کہیں آزادی مبارک ہو سمجھ میں نہیں آتا
معصوم بیٹی کی عزت روز پامال ہوتی ہے

کیوں نہیں درندوں کا قانون بنا آج تک
جبکہ ہر گھر میں کویؑ نہ کویؑ بیٹی ضرور ہوتی ہے

بیٹیوں کو دفن کر دینے والے لوگ پاگل نہیں تھے
پوچھو اس کے دل سے جس کی عزت نیلام ہوتی ہے

کون جواب دے گا سچ کا سامنا کون کرے گا
کویؑ ذمہ دار نہیں کہ سب کی نیت خراب ہوتی ہے

تب ان پڑھ تھے اور اب پڑھے لکھے جاہل ہیں
جاہلو سنو بیٹی کسی کی بھی ہو وہ بیٹی ہوتی ہے

 

YOM E AZAADI MUBARAK HO

Skip to toolbar