کبھی غور کیا ہے؟


کبھی غور کیا ہے کہ ہم کسی عبادت کے بعد جب بھی دعا مانگتے ہیں تو بس خانہ پوری کر کے ایسے اٹھ جاتے ہیں جیسے ہم ( نعوذ بالله من ذلك ) اللہ پاک پر احسان کر رہے ہوتے ہیں جبکہ دعا کم از کم سنت سے مطابقت تو رکھتی ہو پھر قبولیت کی امید بھی رکھی جا سکتی ہے اور سنت مبارکہ ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ طریقہ ہی اللہ پاک کا پسندیدہ بھی ہے ، جبھی تو ہمارے نبی پاک ﷺ اس طرح دعا فرماتے

تھے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام

حضور رسالت مآب ؐ جب اللہ سے دعا مانگتے تو خضوع و خشوع کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو بلند فرماتے اور اس طرح دعامانگتے جیسے کوئی مسکین کسی سے کھانا مانگتا ہے۔

 

Poetry

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: