زینب کیس


زینب کیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسے کہیں کسے بتایؑں کسے سنایؑں سبھی ظالم ہیں
اظہار جو کر سکتے تھے سب آپ کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

دھول سی نظر آتی ہے ہر طرف زمانے میں ہم کو
مسلم غیرت کو بے غیرت کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

آندھی ، طوفاں اور زلزلوں کا بار بار آنا ہے کیا؟
پاک وطن کو حاکم ناپاک کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

ظلم کا بازار ہے اس قدر گرم جناب
اب تو امید کی کرن گناہ کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

اللہ پاک ہی ہم پر رحم فرمایؑں جی بس
کرنا تھا جو کیا نہیں بیٹی کس کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

جانتے ہیں سب لوگ دیکھتے اور سمجھتے بھی ہیں مگر
مظلوم زینب کیس کو کس کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

حیرت ہے اب ایک حسرت تک صرف محدود
اپنی جان و مال اور عزت ابلیس کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

بہت قلیل تعداد بچی ہے جناب ان لوگوں کی جو
اپنی ہر چیز اب بھی وہ اللہ کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

سچایؑ کے واسطے ہم بہریں تلاش کرتے رہیں نہیں
سبھی عروض ہیں جسکے اسی کے سپرد کر کے بہٹھے ہیں

ناقص عقل سہی مگر جو حق ہے بنا سمجھے لکھتے ہیں
دینی ہے جان اللہ کو بس اسی کے سپرد کر کے بیٹھے ہیں

 

Poetry

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: