” چور وی تے نالے چتر وی “


ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جی مجھے کسی کے شور مچانے سے”
اس لےؑ یہ آج یہاں درج کرنے کی سعی کر ہی لیتا ہوں تو عرض ہےکہ
منڈی بہاؤالدین کے ضلع بناےؑ جانے سے بہت پہلے کی بات ہےتب ضلع گجرات تھا ،
زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤنگا لیکن اتنا ہی زکر کر دیناکافی ہوگا کہ پہلے پہل
گجرات سے سرگودھا تک کا علاقہ جانگلی کہلاتا تھا اور یہاں کے لوگ چوری میں بہت
ماہر اور کامیاب جانے جاتے تھے تب چوری کو بھی ایک ہنر سمجھا جاتا تھا ، کہ جو
شخص چوری ٹھیک سے نہیں کر سکتا تھا اس کی شادی بھی نہیں ہو سکتی تھی کہ لڑکی
کے گھر والے کہتے تھے کہ لڑکا تو نکمّا ہے ہماری لڑکی کو بھی بھوکا مارے گا ،
گجرات کے قریب ہی ایک گاؤں میں ایک بابا پیرا نامی چور بھی رہتا تھا اس کا نام بھی
١٠ نمبرےؑ بد معاش میں تھا اس کو بھی سب بڑ ے چوروں کی طرح متعلقہ تھانے میں حاضری
لگوانی پڑتی تھی ، لیکن وہ پھر بھی چوری کر لیتا تھا اور ڈی ایس پی سے نیچے کا عملہ اس کو
پکڑ نہیں سکتا تھا ، کہ وہ آگے سے لڑایؑ بھی کرتا تھا یا مارتا ہی سمجھ لیں وہ کہتا تھا کہ میں نے
چوری کی ہی نہیں مجھے پاتا ہی نہیں اور مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا ہے اور
تم خواہ مخواہ مجھے تنگ کرنے آ نکلتے ہو دفع ہو جاؤ ، وغیرہ پولیس واپس چلی جاتی تھی
تب ایک ایس ایس پی گجرات میں آےؑ انہوں نے اس کو پکڑنے اور لے جانے کا منصوبہ مکمل
کیا اور بابے پیرے کے مخبر نے بھی اس کو خبر دار کیا تب بابے پیرے نے اپنے گاؤں والوں کو
بلا کر سمجھایا کہ میں بھاگوں گا نہیں کہ اب بھاگنا فضول ہے لیکن تم لوگ ایک کام کرو گے کہ جب
پولیس آےؑ گی ان سب کو بہت عزت سے دارے میں ( جہاں مہمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے ) عزت سے
بٹھایؑں اور بولیں کہ آپ بیٹھیں ہم بابے پیرے کو بلاتے ہیں پھر ان کو چاےؑ پانی پلایؑں اور بعد میں
مجھے بلایؑں میں آؤنگا تو وہ مجھ سے بیلوں کی چوری کا پوچھیں گے میں کہونگا کہ میں نے کچھ
بھی چوری نہیں کیا ہے تب وہ مجھے دارے میں بنے ایک کمرے میں لے جایؑں گے اور پیٹنا شروع
کر دیں گے میں شور مچاتا رہونگا تم لوگ خاموش رہنا اور تھوڑی دیر بعد میں اپنے سانس کو
روک لونگا اور خاموش ہو جاؤنگا تب تم لوگ اٹھ کھڑے ہونا اور کہنا کہ تم لوگوں نے ہمارے
بابے پیرے کو مار دیا ہے قتل کر دیا ہے تمہاری ایسی کی تیسی اور ڈندے اٹھا لینا اور پولیس آگے
ہو گی اور تم پیچھے بس وہ دن اور آج کا دن بابا پیرا جب تک بھی جیتا رہا ہے کہتے ہیں اس کو
پکڑنے کبھی بھی کویؑ نہیں آیا ۔

کہنے کا مقصد یہ کہ وہ ایک پروفیشنل چور تھا لیکن سادہ سا تھا اور اب تو پروفیشنل چور
بلکل بھی نہیں گھبراتے وہ قانون کو صرف ہاتھ میں مسل ہی نہیں دیتے بلکہ مروڑ کر پلاسٹک
کی طرح جیسے اور جہاں تک چاہیں اپنی مرضی سے الٹا پلٹا کر لے جاتے ہیں

 

Artical

 

 

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: