” یہ جانتے بھی سب کہاں ہیں “

عقیدت

جانتے ہیں سبھی آتے ہوےؑ رونے کو یہاں

لیکن جاتے ہوےؑ یاں سے روتے بھی سب کہاں ہیں

روتی ہے دنیا اپنی عاقبت کے واسطے جہاں میں

روےؑ کہ نبی رونے ، دکھ سے روتے بھی سب کہاں ہیں

جنت دونگا اسے یہ رب کا وعدہ ہے مگر ناداں

شہادت کو قتل کہنا کیسا ، یہ جانتے بھی سب کہاں ہیں

ہو گزرے گی کہیں جب بھی وفا و تکمیل کی بات

یاد شبیر کو کرے گا زمانہ پر یہ جانتے بھی سب کہاں ہیں

***MAZHAR IQBAL GONDAL***

06/10/2016

janty-bhi-sab-kahan-hen

 

 

Advertisements

Leave a Reply