” ہو کیا گیا ہے “

 

 

کویؑ اعتبار نہیں کرتا کسی پہ ، ہو کیا گیا ہے

رسوا کرتی ہے میری سچایؑ اور ایمان داری ہی مجھے

گیسو خمدار دیکھنے کے لےؑ بھی ترسا دیا تم نے

سب مسیحا سمجھ گےؑ لگی ہے تری بیماری ہی مجھے

باہر نکل کے تو دیکھ زرا اپنی ذات کے درودیوار سے

کر رہی ہے نڈھال کتنا میری حالت ناداری ہی مجھے

 

nai nazam

Advertisements

Leave a Reply