پیش سے کر لو چاہے زبر سے

محبت کرنی ہے چاہے پیش سے کر لو چاہے زبر سے

فقط دل کی ہے بات, جو دماغ سے ہم نہیں کرتے

 

Poetry

 

 

 

One thought on “پیش سے کر لو چاہے زبر سے

Leave a Reply