پکوڑے کھاتے ہیں

 

 

(یہاں ایک مصرع جن کا بھی ہے ان سے معذرت )

آج یہاں ہے ٹھنڈ بہت چل یار کچھ کھاتے ہیں

چل وصل و ہجر کی چھوڑ جا کر پکوڑے کھاتے ہیں

ان کو لگتا ہے انمول ہیں اتنے زمانہ ترسے گا

جو عاشقوں کے خطوط پر رکھ کر پکوڑے کھاتے ہیں

 

 

Poetry

 

 

Leave a Reply