َ رشتہ دار َ

کس کی بات کریں آؤ کرتے ہیں رشتہ داری کی

ہم نے بھی کیا بھروسہ ایک کی رشتہ داری کا

لعنت ہم نہیں زمانہ کرتا ہے اس رشتہ داری پر

ہو نہ احساس جس میں کیا کہیں ایسی رشتہ داری کا

سرشار سمجھتا ہے خود کو وہ جھوٹ کی دلدل میں بھی

اپنایؑ زیست جس نے مکر والی ایسی رشتہ داری کا

چاہتا ہے بھلا خود کا جو ابلیس کی دلداری میں

اُٹھتا چلا جاتا ہے ایماں میرا ایسی رشتہ داری کا

کر کیوں نہ دیں ختم یہ سلسلہ جو ہے دلداری کا

اس نے کر جو دیا ہے ایسا تیسا اس رشتہ داری کا

***Mazhar Iqbal Gondal***

 

 

 

َ رشتہ دار َ

Leave a Reply