غزل

غزل
ــــــــــ

کتنے ہیں پیارے خواب تمہیں آج لیکن
ایسے ہی خواب کبھی ہمارے بھی تھے

گزرے وقت کے مل جایؑں لوگ تو پوچھیں
ہمارے کے جیسے کیا حال تمہارے بھی تھے

زہر جدایؑ کا بھی ہم ہنس کر پی گےؑ تھے
شکوے ہر بزم میں انہیں کو ہمارے بھی تھے

پورا شہر مجھے دشمن جاں لگتا ہے
اسی شہر میں کچھ دوست ہمارے بھی تھے

نفسا نفسی کے دور کی ہے ستم ظریفی مظہر
تمہارے قتل میں ملوث دوست ہمارے بھی تھے

 

 

Poetry

 

 

Leave a Reply