شکار ہونگا یقیں تھا فریب کا

 

 

شکار ہونگا یقیں تھا فریب کا اک دن

ہر ایک شخص کا جو اعتبار کرتا ہوں

 

 

Poetry

 

One thought on “شکار ہونگا یقیں تھا فریب کا

Leave a Reply